السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماۓ کرام ومفتیان عظام مسئلہ ذیل میں کہ شریعت میں میڈیکل انشورینس کرانا کیسا ہے؟
جواب عطافرماکر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی
سائل ممتاز عالم بنگال
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
سب سے پہلے میڈیکل انشورنس کا مطلب سمجھ لیا جاۓ میڈیکل کا معنی طبی اور انشورنس کا معنی یقین دہانی تو میڈیکل انشورنس کا ترجمہ ہوا طبی یقین دہانی اس کو ہندی زبان میں طبی بیمہ بھی کہا جاتا ہے اتنا جان لینے کے بعد یہ بھی اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ میڈیکل انشورنس ناجائز کیوں ہے ؟ انشورنس اس لیے ناجائز ہے کہ اس کے ذریعہ سے انسان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کو مستقبل میں پیش آنے والے حادثات و خطرات اور کچھ نقصانات کی تلافی کو انشورنس (یقین دہانی) حاصل ہوجاۓ اس لیے وہ لائف یا میڈیکل انشورنس کراتا ہے اور اس میں متعینہ مدت (fix Time) تک اپنی رقم کمپنی کو جمع کرتا رہتا ہے اگر خدا نخواستہ اسی دوران اسے کوئی جانی خطرہ لاحق ہو گیا تو کمپنی پوری رقم جو معین کی گی ہے اس کے وارثوں کو ادا کرتی ہے اگرچہ انشورنس ہولڈر نے پوری رقم جمع نہ کی ہو مذکورہ صورت فائدہ کی ضرور ہے جبکہ اس میں کوئی مسلمان شریک نہ ہو یہ صورت بہت ہی شاذ و نادر ہے۔ اس کے برعکس اگر اقساط (installment) جمع کرانا بند کردیا تو جتنی جمع شدہ رقم ہے کمپنی اس کے مالک کو نہیں لوٹاتی بلکہ اسے ضبط کرلیتی ہے اور یہ مالک کے مال پر غیر کا قبضہ ہوا جو صریح زیادتی اور عندالشرع حرام ہے علاوہ ازیں جمع کی رقم متعینہ وقت سے پہلے واپس نہیں لی جاسکتی نہ شرعی طور پر وہ کمپنی اس کی مالک ہوسکتی ہے۔درج بالا تفصیلات کی روشنی میں یہ معلوم ہوگیا کہ موجودہ انشورنس کرانے میں کمپنی سے صرف سود کا معاملہ نہیں ہوتا بلکہ سود کے علاوہ دھوکا جوا اور ظلم و زیادتی بھی شامل ہوتی ہیں اس لیے مروجہ انشورنس شرعی قباحتوں پر مشتمل ہونے کی بناپر از روۓ شریعت حرام ہے
قرآن مجید میں ہے کہ جوا گناہ کبیرہ ہے چنانچہ اللہ تبارک و تعالٰی قرآن مجید میں فرماتا ہے :﴿یَسْـئَلُوْنَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ قُلْ فِیْہِمَآ اِثْمٌ کَبِیْرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ اِثْمُہُمَآ اَکْبَرُ مِنْ نَّفْعِہِمَا﴾
ترجمہ کنزالایمان: تم سے شراب اور جوئے کا حکم پوچھتے ہیں ،تم فرمادو کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے کچھ دنیوی نفع بھی اور ان کا گناہ ان کے نفع سے بڑا ہے۔‘‘(سورۃ البقرہ،پارہ٢ آیت ٢١٩)
جوۓ کی حرمت حدیث مبارک سے
حدیث مبارک میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا :”إن اللہ حرم علیکم الخمر والمیسر والکوبۃ وقال کل مسکر حرام‘‘بے شک ﷲتعالیٰ نے تم پر شراب اور جوا اور کوبہ (ڈھول)حرام کیا اور فرمایا ہر نشے والی چیز حرام ہے۔ (مسند احمد، حدیث ٢٦٢٥، ج٤ ص٣٨١ مؤسسة الرسالة، بیروت)
مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے : عن ابن سیرین قال: کل شيءٍ فیه قمار فهو من المیسر" یعنی : حضرت ابن سرین سے روایت ہے کہ آپ علیہ الصلوۃ و السلام نے ارشاد فرامایا ہر وہ چیز جس میں جوا شامل ہے وہ میسر یعنی جوا ہی کی قسم سے ہے (کتاب البیوع و الاقضیة، ج٤ ص ٤٨٣)
جوۓ کی حرمت فقہی کتب سے
رد المحتار میں ہے : (قوله: لأنه يصير قماراً)؛ لأن القمار من القمر الذي يزداد تارةً وينقص أخرى، وسمي القمار قماراً؛ لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص" یعنی : قمار قمر سے مشتق ہے جو کبھی بڑھتا ہے اور کبھی کم ہوجاتا ہے قمار کو قمار اس لیے کہتے ہیں کہ جواریوں میں سے ہر ایک کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ اس کی رقم دوسرے کے پاس چلی جاۓ اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ دوسرے کے مال سے فائدہ اٹھالے اور یہ نص کے اعتبار سے حرام ہے ( ردالمحتار کتاب الحظر و الاباحة، ج ٦ ص ٤٠٣)
مروجہ انشورنس اعلی حضرت کی نظر میں:
سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمدرضاخان علیہ الرحمہ انشورنس کے متعلق ارشادفرماتے ہیں: ”یہ شرعاً قمار(جُوا)محض ہے وہ ماہوار کہ اس میں دیاجاتاہے ، وقت مشروط سے پہلے واپس نہیں لیا جاسکتا نہ شرعاً وہ محکمہ اس کامالک ہوسکتا ہے۔ وقتِ واپسی جتنا جمع ہوا تھا اس کی ہر سال کی زکوٰة لازم آئے گی اوراگر اس سے زائدملے گاتو اس کی زکوٰة نہیں کہ بیمہ کرانے والے کی ملک نہ تھا۔(فتاوی رضویہ،ج١٩ ، صفحہ ٥٠٢،مطبوعہ رضافاؤ نڈ یشن ، لاھور)
ایک اور پر شادی بیاہ اور زندگی کے بیمہ کے متعلق فرماتے ہیں:”یہ نراقمار ہے ۔ اس میں ایک حد تک روپیہ ضائع بھی جاتاہے اور وہ منافع موہوم ، جس کی امید پر دَین اگر ملے بھی توکمپنی بیوقوف نہیں کہ گرہ سے ہزار ڈیڑھ ہزار دے بلکہ وہ وہی روپیہ ہوگا جو اوروں کاضائع گیا اوران میں مسلمان بھی ہوں گے ، تو کوئی وجہ اس کی حلت کی نہیں۔“(فتاوی رضویہ، ج١٧ ، صفحہ ٣٨١،مطبوعہ رضا فاؤ نڈیشن ، لاھور شریف)
انشورنس کرانے میں اگر کوئی مسلمان بھی شریک ہو تو یہ وجہ بھی انشورنس کی حرمت پر دلالت کرتی ہے چنانچہ سیدی اعلی حضرت فرماتے ہیں: ”جس کمپنی سے یہ معاملہ کیاجائے ، اگر اس میں کوئی مسلمان بھی شریک ہے ، تومطلقاً حرام قطعی ہے کہ قمار ہے اور اس پرجو زیادت ہے ربا اور دونوں حرام وسخت کبیرہ ہیں۔“
حضرت مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فتاوی امجدیہ میں انشورنس کی ایک صورت کا حکم بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ”یہاں دو صورتیں ہیں: مرجاتے ہیں تو ورثہ کو پوری وہ رقم جو معین کی گئی ہے ملتی ہے، اگرچہ کل رقم جمع نہ کی ہو اور یہ ایک صورت فائدہ کی ہے، مگر دوسری صورت کہ کسی وجہ سے رقم جمع کرنا بند کردیا ،تو جو کچھ جمع کیا ہے وہ بھی پورا نہیں ملتا ،یہ صورت سراسر نقصان کی ہے اور کفار سے اس طرح پر عقد فاسد کے ذریعہ رقم حاصل کرنے میں جواز اُسی وقت ہے جبکہ نفع مسلم کا ہو۔“(فتاوی امجدیہ، ج٣، صفحہ٢٣٨ مکتبہ رضویہ، کراچی)
بہار شریعت میں آپ فرماتے ہیں:’’عقد فاسد کے ذریعہ سے کافر حربی کا مال حاصل کرنا ممنوع نہیں یعنی جو عقد مابین دو مسلمان ممنوع ہے اگر حربی کے ساتھ کیا جائے تو منع نہیں مگر شرط یہ ہے کہ وہ عقد مسلم کے لیے مفید ہو۔‘‘(بھار شریعت، ج٢ ح١١، صفحہ٧٧٥ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
البتہ اگر کسی ملک کے قانونی یا شدید مجبوری کے تحت ہیلتھ انشورنس (Medi-claim) یا دیگر انشورنس بیمہ کرانا پڑے تو فقہی اصول "الضرورات تبیح المحظورات" (یعنی ضرورتیں ممنوعہ چیزوں کو جائز کر دیتی ہیں) کی بنیاد پر اجازت ہوگی، لیکن اضافی رقم کا استعمال جائز نہیں ہوگا ممکن ہے کہ اس میں کوئی مسلمان بھی شریک ہوں اس لیے زائد رقم ربا کہلاۓگی جس کو بلا نیت ثواب کے فقرا میں تصدق کیا جاۓگا .واللہ و رسولہ اعلم بالصواب
کتبہ
سید محمد نذیرمیاں سہروردی
بتاریخ 16 جمادی الاول 1448 ھ
مطابق 27 اکتوبر 2026ء بروز منگل بوقت 7:28
ایک تبصرہ شائع کریں